فرحی نعیم
یاسر دائیں ہاتھ کی مٹھی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مسلسل مار رہا تھا افسوس اور غصہ اس کے چہرے سے مترشح تھا۔ کبھی وہ پلنگ پر بیٹھتا اور کبھی کھڑے ہو کر ٹہلنے لگتا۔
’’کیا کروں؟‘‘ وہ اپنے آپ سے بولا ’’اسد کا بچہ بس ایک دفعہ مجھے مل جائے پھر میں اُس کی ساری باتوں کا جواب دے دوں گا۔‘‘ و کتنی ہی دیر اسی طرح ٹہلتا رہا پھر آخر کار تھک کر بیٹھ...
Showing posts with label دوستی یا …؟. Show all posts
Showing posts with label دوستی یا …؟. Show all posts