ہم خطے میں امن اوراستحکام کیلئے کھڑے ہیں، افغانستان کی صورتحال نازک مرحلے میں ہے
مفاہمتی اور امن عمل کے سلسلے میں تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں
دنیا میں صرف ایک چین ہے عوامی جمہوریہ چین کی حکومت پورے چین کی قانونی نمائندہ حکومت ہے
تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے، ترجمان چینی وزارت خارجہ کینگ شوانگ کی پریس بریفنگ
بیجنگ(ایچ ایم نیوز) چین نے افغانستان میں مفاہمت اور بات چیت کے عمل کی کامیابی کیلئے بھر پور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے ،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دورا ن کہا کہ ہم خطے میں امن اوراستحکام کیلئے کھڑے ہیں ،امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی پر دہشتگردوں کے حالیہ حملے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس وقت افغانستان کی صورتحال نازک مرحلے میں ہے ،چین نے ہمیشہ دہشتگردی کی مخالفت اور مذمت کی ہے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہواور ان کوششوں اور اقدامات کی حمایت کی ہے جو افغانستان میں امن اوراستحکام کے سلسلے میں اٹھائے جائیں، ترجمان نے مزید کہا کہ ہم افغانستان امن عمل میں شامل تمام فریقوں کے ساتھ رابطے اور تعاون مضبوط کرنے کے خواہشمندہیں، قومی مفاہمتی اور امن عمل کے سلسلے میں مل جل کر کام کرنے کے خواہشمندہیں ،ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا چین کرباتی حکومت کے اس فیصلے کو سراہتا ہے جو اس نے ایک چین اصول تسلیم کرنے کے سلسلے میں کیاہے اور تائیوان حکام کے ساتھ نام نہاد سفارتی تعلقات ختم کر دیئے ہیں اور چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں،ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور عوامی جمہوریہ چین کی حکومت پورے چین کی قانونی نمائندہ حکومت ہے اور تائیوان چینی سر زمین کا اٹوٹ انگ ہے اس کی نا صرف اقوام متحدہ کی قرار دادوں نے تصدیق کی ہے بلکہ بین الاقوامی برادری کا بھی اس پر عمومی اتفاق ہے ایک چین اصول کی بنیاد پر چین نے دنیا بھر کے 178 ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں ،انہوں نے مزید کہاکہ گزشتہ چند برسوں میں پیسیفک آئی لینڈ ممالک سولومن آئی لینڈ اور کرباتی نے کامیابی کے ساتھ ایک چین اصول کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا اور تائیوان حکام کے ساتھ اپنے تعلقات توڑ کر چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات قائم کئے اس سے مکمل طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ایک چین کا اصول عوام کی خواہش اور وقت کی آواز ہے جو دبائی نہیں جا سکتی ۔
0 comments:
Post a Comment